Thursday, 30 January 2020

📃میرے اعمال بتاتے تجھے میں سیّد ہوں اپنا شجرہ نہ ترے سامنے جھاڑا کرتی

📃کون کہتا ہے تو ملتا توٙ  کنارہ  کرتی
بھوک سے مرتی مگر پھر بھی گزارہ کرتی

📃بے بسی میں جو تو غربت کی دہائ دیتا
انگلیاں پھیرتی ہونٹوں کو سیپارہ کرتی

📃قصے سن لیتی تیری بارہا ناکامی کے
پھر بھی مڑ کر تجھے طعنے نہیں مارا کرتی

📃جانتی ہوں مجھے"مشکل"سے گزرنا پڑتا
پھر بھی آرام ترے سر پہ سے وارا کرتی 

📃عشق کرتی یدھی کرتی ہی چلی جاتی میں
یآر شلجم سے میں مٹی نہیں جھاڑا کرتی

📃میرے اعمال بتاتے تجھے میں سیّد ہوں
اپنا شجرہ نہ ترے سامنے  جھاڑا کرتی

📃نبیر سیّد

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...