Friday, 22 June 2018

روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا کہ پلٹ کر مت دیکھp


سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ
منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ
روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے
میں نے جگنو سےکہا تھا کہ پلٹ کر مت دیکھ
تاب داں کھول کے رستے کی طرف دیکھتا رہ
گھر کی دیوار پہ تصویر سمٹ کر مت دیکھ
خانۂ دہر سے یوں سیرِ طلب کو نہ اٹھا
کوزہ گر کاسہء وحشت کو الٹ کر مت دیکھ
یہ جو محرومیء گلزار میں سر پیٹتے ہیں
اپنے پہلو سے اٹھا ان سے لپٹ کر مت دیکھ

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...