Thursday, 21 June 2018

اک تری آواز سننے کے لیے زندہ ہیں ہم تُو ہی جب خاموش ہو جائے تو پھر کیا ٹھیک ہے


بعد میں مجھ سے نہ کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے
ویسے سننے میں یہی آیا  ہے رستہ ٹھیک ہے
اس جہان ِخاک میں ہر شے کو ہے آخر زوال
اس کا مطلب سوکھ جاتا ہے تو دریا ٹھیک ہے
ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے اُس کی برتری
آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے
شاخ سے پتا گرے، بارش رکے، بادل چھٹیں
میں ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے
اُس کے آنسو قبر تک پیچھا نہ چھوڑیں گے مرا
میں اگر مر جاؤں اُس کا دھیان رکھنا،  ٹھیک ہے؟ 
اک  تری آواز  سننے  کے لیے  زندہ  ہیں  ہم
تُو ہی جب خاموش ہو جائے تو پھر کیا ٹھیک ہے

3 comments:

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...