Thursday, 21 June 2018

تیرا دن ہو کہ مری رات، نہیں رک سکتے اپنے محور پہ زمیں خود کو گھما سکتی ہے


دوست بن کر بھی کہیں گھات لگا سکتی ہے
موت کا کیا ہے؟ کسی روپ میں آ سکتی ہے
ان  مکانوں  میں  یہ  دھڑکا  سا لگا  رہتا  ہے
اگلی  بارش  در  و  دیوار  گرا  سکتی  ہے
تیرا دن ہو کہ مری رات، نہیں رک سکتے
اپنے محور پہ زمیں خود کو گھما سکتی ہے
ایسی ترتیب سے روشن ہیں تری محفل میں
ایک ہی پھونک چراغوں کو بجھا سکتی ہے
میرا فن میرے  خد  و خال  پہ تقسیم ہوا
میری  بینی  مری  تصویر  بنا  سکتی  ہے
فطرتاً اس کی مہک چاروں طرف پھیلے گی
پھول سے  موجِ  صبا  شرط لگا  سکتی ہے
خوش نہ ہو اتنا کہ یوں روشنیاں پھوٹ پڑیں
اس چکا چوند میں بینائی بھی جا سکتی ہے
گدگداہٹ میں نسیم اس نے نہیں سوچا تھا
یہ ہنسی  ٹوٹ  کے  بچے کو  رلا  سکتی  ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...