Thursday, 21 June 2018

عکس آئینے میں نہیں ملتا پردہ تو آنکھ پر پڑا ہوا ہے

چاک پر ایک سر پڑا ہوا ہے
یعنی بارِ ہنر پڑا ہوا ہے

ڈھونڈتا پھر رہا ہوں گلیوں میں
اور بدن اپنے گھر پڑا ہوا ہے

عکس آئینے میں نہیں ملتا
پردہ تو آنکھ پر پڑا ہوا ہے

زخم دو گے تو خرچ ہو گا ناں
حوصلہ دشت بھر پڑا ہوا ہے

سر اٹھانے کے بعد علم ہوا
عشق دہلیز پر پڑا ہوا ہے

سید صہیب ھاشمی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...