Saturday, 5 November 2022

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا

میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا


 غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں 

 میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ ہاتھ لگا


 وگرنہ تم پہ بھی مفہومِ دل لگی کھلتا

تمہارے بخت کہ مجھ سا بچارہ ہاتھ لگا


میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا

جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا


مجھے وہ آگ میسر ہوئی تو ٹھنڈی تھی 

بجھا چکا تھا کوئی جب شرارہ ہاتھ لگا 


تو سامنے ہے مرے، اور میں پھر بھی زندہ ہوں

مجھے یقین تو آئے...... خدارا ہاتھ لگا


گلاب دے کے کوئی ساتھ لے گیا اس کو

 اسے میں ہار چکا تو ستارہ ہاتھ لگا


مجھ ایسا دشتِ سخن میں تمام عمر پھرا

غزل ملی...... نہ کوئی نثر پارہ ہاتھ لگا


آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...