Saturday, 6 February 2021

زن زمیں زر سے بناتا ہے وہ برمودہ تکون جو بھی جاتا ہے مری جان وہاں ڈوبتا ہے

 نقش ِ بر آب کناروں کےمیاں ڈوبتا ہے

آنکھ سیلاب اٹھائے تو سماں ڈوبتا ہے


مردہ اجسام تہہِ آب نہیں رہ سکتے

ابھی زندہ ہے مرا دل کہ یہاں ڈوبتا ہے


حکم آیا ہے کہ چڑیاں نہ چہکنے پائیں

یہ چہکتی ہیں تو پھر شورِ سگاں ڈوبتا ہے


سیلِ ادراک ہے یہ اور یہاں موجوں میں

وہ تموج ہے کہ مینارِ گماں ڈوبتا ہے


ڈوب جاتا ہوں کسی موج کی طغیانی میں 

ایسے جیسے کسی دریا میں جواں ڈوبتا یے


تیرنے والے بچاتے ہی نہیں ڈوبتے کو

فقط آواز لگاتے ہیں فلاں ڈوبتا ہے


زن زمیں زر سے بناتا ہے وہ برمودہ تکون

جو بھی جاتا ہے مری جان وہاں ڈوبتا ہے


عصمت اللہ نیازی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...