پھول کا رنگ اڑا اڑتے ہی خاشاک ہوا
میں نے پوچھا کہ تعلق تو کہا خاک ہوا
وہ سیہ رات تھی، جلتا تھا فقط ایک چراغ
میں اسے پھونکنے والا تھا کہ ادراک ہوا
میری سیماب طبیعت سے مجھے دوستوں نے
بیوقوف اتنا بنایا کہ میں چالاک ہوا
وہ زلیخا کی سرائے ہے ادھر جا کے نہ دیکھ
ایک کرتہ ہے اگر یہ بھی وہاں چاک ہوا
عصمت اللہ نیازی
No comments:
Post a Comment