Saturday, 6 February 2021

میری سیماب طبیعت سے مجھے دوستوں نے بیوقوف اتنا بنایا کہ میں چالاک ہوا

 پھول کا رنگ اڑا اڑتے ہی خاشاک ہوا

میں نے پوچھا کہ تعلق تو کہا خاک ہوا


وہ سیہ رات تھی، جلتا تھا فقط ایک چراغ

میں اسے پھونکنے والا تھا کہ ادراک ہوا


میری سیماب طبیعت سے مجھے دوستوں نے

بیوقوف اتنا بنایا کہ میں چالاک ہوا


وہ زلیخا کی سرائے ہے ادھر جا کے نہ دیکھ

ایک کرتہ ہے اگر یہ بھی وہاں چاک ہوا


عصمت اللہ نیازی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...