Saturday, 6 February 2021

ہم اہلِ ہند اسے آفتاب کہتے ہیں جو ڈوبتا ہے ترے نور کے ظہور کی سمت

 سیہ نصیب سفر میں ہے ایک نور کی سمت

یہ لاشعور بھی چلنے لگا شعور کی سمت


پہنچ گیا ہوں مدینے میں سیدھا چلتے ہوئے

اگرچہ مجھ کو دکھائی گئی تھی دور کی سمت


ہم اہلِ ہند اسے آفتاب کہتے ہیں

جو ڈوبتا ہے ترے نور کے ظہور کی سمت


بہت غرور تھا مجھ کو غزل شعار ہوں میں

پھر ایک نعت سے بدلی مرے غرور کی سمت


خدا کا شکر ہے بڑھتی ہوئی یہ موجِ خیال

گہے خدا کی طرف ہے گہے حضور کی سمت


عصمت اللہ نیازی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...