سیہ نصیب سفر میں ہے ایک نور کی سمت
یہ لاشعور بھی چلنے لگا شعور کی سمت
پہنچ گیا ہوں مدینے میں سیدھا چلتے ہوئے
اگرچہ مجھ کو دکھائی گئی تھی دور کی سمت
ہم اہلِ ہند اسے آفتاب کہتے ہیں
جو ڈوبتا ہے ترے نور کے ظہور کی سمت
بہت غرور تھا مجھ کو غزل شعار ہوں میں
پھر ایک نعت سے بدلی مرے غرور کی سمت
خدا کا شکر ہے بڑھتی ہوئی یہ موجِ خیال
گہے خدا کی طرف ہے گہے حضور کی سمت
عصمت اللہ نیازی
No comments:
Post a Comment