Saturday, 6 February 2021

اس نے گھڑیال پہ رکھے ہیں عروج اور زوال یعنی اوقات دکھانے کو یہ اوقات بنے

کس لیے ایک تسلسل میں یہ دن رات بنے
اک دھماکے سے اگر ارض و سماوات بنے

جملہ اعداد پہ بھاری ہے ابھی ایک عدد
اور کچھ جمع کرو تاکہ مساوات بنے

اس نے گھڑیال پہ رکھے ہیں عروج اور زوال
یعنی اوقات دکھانے کو یہ اوقات بنے

آتے آتے ہی مجھے خوف برتنا آیا
بنتے بنتے ہی مرے واہمے خدشات بنے

بات بنتی ہے کہاں کوئی تگ و دو کے بغیر
سو جتن میں نے کیے ہیں کہ مری بات بنے

عصمت اللہ نیازی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...