اک دھماکے سے اگر ارض و سماوات بنے
جملہ اعداد پہ بھاری ہے ابھی ایک عدد
اور کچھ جمع کرو تاکہ مساوات بنے
اس نے گھڑیال پہ رکھے ہیں عروج اور زوال
یعنی اوقات دکھانے کو یہ اوقات بنے
آتے آتے ہی مجھے خوف برتنا آیا
بنتے بنتے ہی مرے واہمے خدشات بنے
بات بنتی ہے کہاں کوئی تگ و دو کے بغیر
سو جتن میں نے کیے ہیں کہ مری بات بنے
عصمت اللہ نیازی
No comments:
Post a Comment