چلتے پهرتے لاشے سب،معدوم ہیں، مرحوم ہیں
جو بهی تیری یاد سے محروم ہیں ،مرحوم ہیں
صبح غم سے چُور ہے شب کے بهی دکهڑے کم نہیں
تیرے بِن شام و سحر مغموم ہیں ، مرحوم ہیں
وحشتوں کی ٹهوکریں کها کر بهی گریہ نہ کریں
ظلم پر خاموش جو مظلوم ہیں ،مرحوم ہیں
حاکم و سالار بے حس ہو چکے کشمیر ! سُن
شہ رگوں کے فقرے جو مرقوم ہیں، مرحوم ہیں
ہجرِ جاناں مثلِ حرمل تیر برساتا گیا
چھلنی خوابوں کے ہوئے حلقوم ہیں، مرحوم ہیں
مشکلوں کی خیر ہو احباب سب پرکهے گئے
جتنے میرے نام سے موسوم ہیں مرحوم ہیں
فصلِ گل الماس ہو یا رُت سہانی میگھ کی
بن ترے مضمون جو منظوم ہیں مرحوم ہیں
🌺منیر الماس🌺
No comments:
Post a Comment