Saturday, 6 February 2021

مشکلوں کی خیر ہو احباب سب پرکهے گئے جتنے میرے نام سے موسوم ہیں مرحوم ہیں

 چلتے پهرتے لاشے سب،معدوم ہیں، مرحوم ہیں

جو بهی تیری یاد سے محروم ہیں ،مرحوم ہیں


صبح غم سے چُور ہے شب کے بهی دکهڑے کم نہیں

تیرے بِن  شام و سحر مغموم ہیں ، مرحوم ہیں


وحشتوں کی ٹهوکریں کها کر بهی گریہ نہ کریں

ظلم پر خاموش جو مظلوم ہیں ،مرحوم ہیں


حاکم و سالار بے حس ہو چکے کشمیر !  سُن

شہ رگوں کے فقرے جو مرقوم ہیں، مرحوم ہیں


ہجرِ جاناں   مثلِ حرمل  تیر   برساتا  گیا

چھلنی خوابوں کے ہوئے حلقوم ہیں، مرحوم ہیں


مشکلوں کی خیر ہو احباب سب پرکهے گئے

جتنے میرے نام سے موسوم ہیں مرحوم ہیں


فصلِ گل الماس ہو یا رُت سہانی میگھ کی

بن ترے مضمون جو منظوم ہیں مرحوم ہیں


🌺منیر الماس🌺

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...