Monday, 4 January 2021

پی بھی جا شیخ کہ ساقی کی عنایت ہے شراب میں ترے بدلے قیامت میں گنہ گار رہا

 یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا 

پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا


ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد 

ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا 


گر کے نظروں سے تری پھر نہ زمیں سے اٹھا 

میں سبک بھی جو ہوا تو بھی گراں بار رہا 


پی بھی جا شیخ کہ ساقی کی عنایت ہے شراب 

میں ترے بدلے قیامت میں گنہ گار رہا


میں رہا بھی تو رہا خار کی صورت کہ سدا 

تیری نظروں میں سبک دل پہ ترے یار رہا 


چشم پر نشہ ساقی جو رہی عکس فگن 

چور مستی سے ہر اک ساغر سرشار رہا


کچھ خبر ہوتی تو میں اپنی خبر کیوں رکھتا 

یہ بھی اک بے خبری تھی کہ خبردار رہا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...