یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا
پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا
ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد
ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا
گر کے نظروں سے تری پھر نہ زمیں سے اٹھا
میں سبک بھی جو ہوا تو بھی گراں بار رہا
پی بھی جا شیخ کہ ساقی کی عنایت ہے شراب
میں ترے بدلے قیامت میں گنہ گار رہا
میں رہا بھی تو رہا خار کی صورت کہ سدا
تیری نظروں میں سبک دل پہ ترے یار رہا
چشم پر نشہ ساقی جو رہی عکس فگن
چور مستی سے ہر اک ساغر سرشار رہا
کچھ خبر ہوتی تو میں اپنی خبر کیوں رکھتا
یہ بھی اک بے خبری تھی کہ خبردار رہا
No comments:
Post a Comment