Thursday, 21 June 2018

لفظ ریشوں کی طرح بُننا ہے شامل خون میں میرے پرکھوں کا ہنر قالین بافی ہے بھئی..


تول لیکن دیکھ مجھ میں نم اضافی ہے بھئی
اس کو منہا کر کے لکھ جو وزن صافی ہے بھئی..
میں اکیلا ڈھو رہا ہوں بوجھ دہرے ہجر کا
یہ ادھورے عشق کی پوری تلافی ہے بھئی..
لفظ ریشوں کی طرح بُننا ہے شامل خون میں
میرے پرکھوں کا ہنر قالین بافی ہے بھئی..
اس قدر رو جس قدر بنتا ہے غم کا اصل زر
سود تو ویسے بھی مذہب کے منافی ہے بھئی..
آدمی کے ساتھ کیا کرتی ہے کم بخت آگہی
آئینہ دیکھا ابھی توبہ! معافی ہے بھئی..
اتنی وحشت جذب کرتے سینکڑوں لگ جائیں گے
ہاں! اگر مجھ سا ہو تو اک آدھ کافی ہے بھئی..
وہ زیادہ سے زیادہ کیا کرے گا دیکھ لوں
تجرباتی قسم کی وعدہ خلافی ہے بھئی..

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...