Thursday, 21 June 2018

ہم سے پوچھ ناں شہروں میں کیا گزری ہے تُو نے ویرانے میں وحشت کی اور بس


تجھ کو سوچا تیری حسرت کی اور بس
ہم نے ساری عمر محبت کی اور بس
ہم سے پوچھ ناں شہروں میں کیا گزری ہے
تُو نے ویرانے میں وحشت کی اور بس
کس نے کیسے عمر گزاری تجھ کو کیا
تُو نے تو کچھ دیر رفاقت کی اور بس
دل نے آخری سانس تلک تاوان بھرا
آنکھوں نے اِک خواب کی نیّت کی اور بس
کون مجھے کیا سمجھا میثم مجھ کو کیا
میں نے تو ہر شخص کی عزت کی اور بس

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...