Thursday, 21 June 2018

اک زیارت کے سوا، یار کی قربت کے سوا اور اے ارض و سما، تم سے میں کیا لیتا ہوں


رنگ سے راستہ، صورت سے پتا لیتا ہوں
اور بچھڑے ہوئے اک عشق کو جا لیتا ہوں
اب تو یہ تجھ سے بھی باور نہیں ہونے والا
میرا قصہ ہے سو خود کو ہی سنا لیتا ہوں
اک زیارت کے سوا، یار کی قربت کے سوا
اور اے ارض و سما، تم سے میں کیا لیتا ہوں
رطلِ عشق اپنی طرف سے تو اُٹھایا ہوا ہے
لا اسے تیری طرف سے بھی اُٹھا لیتا ہوں
سید کاشف رضا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...