Saturday, 30 May 2020
میں بھیگی رات کو کل دھوپ میں سکھاؤں گا ابھی تو اشکوں کی ماری، لپیٹ کر رکھ دی
جو تیرے ساتھ گزاری، لپیٹ کر رکھ دی
وہ رات ہجر نے ساری، لپیٹ کر رکھ دی
بہت لگن سے چراغوں کو تھا کیا روشن
ہوا نے کار گزاری، لپیٹ کر رکھ دی
میں بھیگی رات کو کل دھوپ میں سکھاؤں گا
ابھی تو اشکوں کی ماری، لپیٹ کر رکھ دی
بس اک دوپٹہ تھا جو اُس گلے پہ ٹھہرا تھا
جو شال اوڑھی تھی بھاری، لپیٹ کر رکھ دی
تمہارا نام لیا ، واسطے دیئے اُس نے
شجر کو کاٹتی آری، لپیٹ کر رکھ دی
وہ اونچی ذات کا چھورا تھا صاف بچ نکلا
وہ نیچ ذات کی ناری ، لپیٹ کر رکھ دی
اُسی کے کہنے پہ پہنی تھی آج شرٹ بلیک
ملا نہیں وہ ، اُتاری ، لپیٹ کر رکھ دی
Subscribe to:
Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...