Friday, 16 March 2018

زرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے سمندروں ہی کے لہجے میں بات کرتا ہے

ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے

سمندروں ہی کے لہجے میں بات کرتا ہے

کھلی چھتوں کے دیئے کب کے بجھ گئے ہوتے

کوئی تو ہے جو ہواؤں کے پر کترتا ہے

شرافتوں کی یہاں کوئی اہمیت ہی نہیں

کسی کا کچھ نہ بگاڑو تو کون ڈرتا ہے

یہ دیکھنا ہے کہ صحرا بھی ہے سمندر بھی

وہ میری تشنہ لبی کس کے نام کرتا ہے

تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں

زمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے

زمیں کی کیسی وکالت ہو پھر نہیں چلتی

جب آسماں سے کوئی فیصلہ اترتا ہے

وسیم بریلوی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...