یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ
سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ
سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ
کھل گیا منھ اب تو اس محجوب کا
کچھ سخن کی بھی نکل آوے گی راہ
کچھ سخن کی بھی نکل آوے گی راہ
شرم کرنی تھی مرا سر کاٹ کر
سو تو ان نے اور ٹیڑھی کی کلاہ
سو تو ان نے اور ٹیڑھی کی کلاہ
شیخ تو نے خوب سمجھا میرؔ کو
واہ وا اے بے حقیقت واہ واہ
واہ وا اے بے حقیقت واہ واہ
میر تقی میر
No comments:
Post a Comment