Thursday, 15 March 2018

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہے حصارِ رنگ سے نکلیں تو بات بنتی ہے

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہے
حصارِ رنگ سے نکلیں تو بات بنتی ہے
کسی کسی کو زمانہ فروغ دیتا ہے
کسی کسی کی زمانے کے سات بنتی ہے
نقوشِ ریگ سہی، تو بھی کچھ بنا کے تو دیکھ
کہ رفتہ رفتہ یونہی کائنات بنتی ہے
مرے نجوم پہ اب مستقل اندھیرا ہے
تری نگاہ میں کب چاند رات بنتی ہے
خلاء میں رام کئی بار غور سے دیکھا
کسی کی آنکھ ہی وجہِ ثبات بنتی ہے

رام ریاض

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...