Saturday, 17 March 2018

سب کو آتا نہیں دنیا کو سجا کر جینا زندگی کیا ہے، محبت کی زباں سے سنیے

چاند سے، پھول سے یا میری زباں سے سنیے
ہر طرف آپ کا قصہ ہے جہاں سے سنیے

سب کو آتا نہیں دنیا کو سجا کر جینا
زندگی کیا ہے، محبت کی زباں سے سنیے

میری آواز ہی پردہ ہے میرے چہرے کا
میں ہوں خاموش جہاں مجھ کو وہاں سے سنیے

کیا ضروری ہے کہ ہر پردہ اٹھایا جائے
میرے حالات کو اپنے ہی مکاں سے سنیے

ندا فاضلی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...