Wednesday, 25 April 2018

دیکھ کر ضبط میرا، دشت نے پاؤں پکڑے پھر میری پیاس پہ کہتے ہیں سمندر ناچا


اس نے یکبار جو محفل میں اُٹھائیں پلکیں
دستِ ساقی کبھی بوتل، کبھی ساغر ناچا
دھڑکنیں وجد کناں ہو کے ہوئیں چُپ ایسے
جب میرے دل پہ میرے یار کا خنجر ناچا
کیا کہیں کتنی دراڑوں نے زباں کھولی ہے
دل کے شیشے پہ جو اک ہجر کا کنکر ناچا
وقتِ رخصت میری پلکوں سے لہو بھی نچڑا
پھر میرا ضبط میری آنکھ میں آ کر ناچا
دیکھ کر ضبط میرا، دشت نے پاؤں پکڑے
پھر میری پیاس پہ کہتے ہیں سمندر ناچا
یار نے دیکھ لیا جب ثاقب دلِ خستہ کو
پھر یہ پاگل، سرِ محفل، سرِ محشر ناچا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...