اس نے یکبار جو محفل میں اُٹھائیں پلکیں
دستِ ساقی کبھی بوتل، کبھی ساغر ناچا
دستِ ساقی کبھی بوتل، کبھی ساغر ناچا
دھڑکنیں وجد کناں ہو کے ہوئیں چُپ ایسے
جب میرے دل پہ میرے یار کا خنجر ناچا
جب میرے دل پہ میرے یار کا خنجر ناچا
کیا کہیں کتنی دراڑوں نے زباں کھولی ہے
دل کے شیشے پہ جو اک ہجر کا کنکر ناچا
دل کے شیشے پہ جو اک ہجر کا کنکر ناچا
وقتِ رخصت میری پلکوں سے لہو بھی نچڑا
پھر میرا ضبط میری آنکھ میں آ کر ناچا
پھر میرا ضبط میری آنکھ میں آ کر ناچا
دیکھ کر ضبط میرا، دشت نے پاؤں پکڑے
پھر میری پیاس پہ کہتے ہیں سمندر ناچا
پھر میری پیاس پہ کہتے ہیں سمندر ناچا
یار نے دیکھ لیا جب ثاقب دلِ خستہ کو
پھر یہ پاگل، سرِ محفل، سرِ محشر ناچا
پھر یہ پاگل، سرِ محفل، سرِ محشر ناچا
No comments:
Post a Comment