Tuesday, 10 April 2018

معلوم تھا سائے پہ گرا کرتی ہے دیوار بیٹھا نہ گیا دھوپ میں دیوار سے ہٹ کے


پہچان زیادہ نہیں دو چار سے ہٹ کے
وہ یار بھی اب رہتے ہیں اس یار سے ہٹ کے
معلوم تھا سائے پہ گرا کرتی ہے دیوار
بیٹھا نہ گیا دھوپ میں دیوار سے ہٹ کے
کھولی تھی دکاں دور کہ پہچان ہو آسان
بازار نیا کھل گیا بازار سے ہٹ کے
فرصت ہوئی ایسی کہ میسر نہیں اب کام
بیٹھا تھا ذرا کارِ لگا تار سے ہٹ کے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...