پہچان زیادہ نہیں دو چار سے ہٹ کے
وہ یار بھی اب رہتے ہیں اس یار سے ہٹ کے
وہ یار بھی اب رہتے ہیں اس یار سے ہٹ کے
معلوم تھا سائے پہ گرا کرتی ہے دیوار
بیٹھا نہ گیا دھوپ میں دیوار سے ہٹ کے
بیٹھا نہ گیا دھوپ میں دیوار سے ہٹ کے
کھولی تھی دکاں دور کہ پہچان ہو آسان
بازار نیا کھل گیا بازار سے ہٹ کے
بازار نیا کھل گیا بازار سے ہٹ کے
فرصت ہوئی ایسی کہ میسر نہیں اب کام
بیٹھا تھا ذرا کارِ لگا تار سے ہٹ کے
بیٹھا تھا ذرا کارِ لگا تار سے ہٹ کے
No comments:
Post a Comment