Monday, 30 April 2018

قُرباں ترے کہ اک نگہ التفات نے دل کی جھِجک کو جراءت رندانہ کر دیا ۔

ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا
رندوں نے کائنات کو میخانہ کر دیا
۔
اے حُسن! داد دے کہ تمنائے عشق نے
تیری حیا کو عشوہء تُرکانہ کر دیا
۔
قُرباں ترے کہ اک نگہ التفات نے
دل کی جھِجک کو جراءت رندانہ کر دیا
۔
صد شکر درسِ حکمتِ ناحق شناس کو
ھم نے رہینِ نعرہء مستانہ کر دیا
۔
کچھ روز تک تو نازشِ فرزانگی رہی
آخر ہجومِ عقل نے دیوانہ کر دیا
۔
دُنیا نے ہر فسانہ حقیقت بنا دیا
ہم نے حقیقتوں کو بھی افسانہ کر دیا
۔
آواز دو کہ جنسِ دو عالم کو جوش نے
قربانِ یک تبسّمِ جانانہ کر دیا​

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...