Thursday, 19 April 2018

یوں جسم مہکتا ہے ہوائے گل تر سے! جیسے کوئی پہلو سے ابھی اٹھ کے گیا ہو


کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہو
اس رات کے سناٹے میں، کوئی تو صدا ہو
یوں جسم مہکتا ہے ہوائے گل تر سے!
جیسے کوئی پہلو سے ابھی اٹھ کے گیا ہو
دنیا ہمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو
کچھ اور قریب آؤ، کوئی سن نہ رہا ہو
یہ رنگ، یہ انداز نوازش تو وہی ہے
شاید کہ کہیں پہلے بھی تو مجھ سے ملا ہو
یوں رات کو ہوتا ہے گماں دل کی صدا پر
جیسے کوئی دیوار سے سر پھوڑ رہا ہو
دنیا کو خبر کیا ہے مرے ذوق نظر کی
تم میرے لیے رنگ ہو، خوشبو ہو، ضیا ہو
یوں تیری نگاہوں میں اثر ڈھونڈ رہا ہوں
جیسے کہ تجھے دل کے دھڑکنے کا پتا ہو
اس درجہ محبت میں تغافل نہیں اچھا
ہم بھی جو کبھی تم سے گریزاں ہوں تو کیا ہو
ہم خاک کے ذروں میں ہیں اخترؔ بھی، گہر بھی
تم بام فلک سے، کبھی اترو تو پتا ہو

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...