Friday, 20 April 2018

ہم فقیروں کے لیے شاہ و گدا ایک سے ہیں بات کرنا بھی تو لہجہ ذرا دھیما کر کے

اپنے ہی گھر کے دروبام سے جھگڑا کر کے
میں نکل آیا ہوں کمرے کو اکیلا کر کے

جاؤ تم خواب کنارے پہ لگاؤ خیمے
میں بھی آتا ہوں ذرا شام کو چلتا کر کے

پہلے پہلے یہاں جنگل تھا گھنیرا جنگل
کاٹنے والوں نے چھوڑا اسے رستہ کر کے

وہ شب و روز، مہ و سال، وہ بکھرے لمحے
آپ کہیے تو اٹھا لاتا ہوں یکجا کر کے

ہم فقیروں کے لیے شاہ و گدا ایک سے ہیں
بات کرنا بھی تو لہجہ ذرا دھیما کر کے

عشق منصوبہ بنا کر نہیں ہوتا ہر گز
شعر لکھا نہیں جاتا ہے ارادہ کر کے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...