Friday, 13 April 2018

اپنا لڑنا بھی محبت ھے تمھیں علم نہیں چیختی تم رھی اور میرا گلہ بیٹھ گیا

تیرا چپ رہنا میرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا
اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا

یوں نہیں ھے کہ میں ھی فقط اسے چاہتا ھوں
جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا

اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ
اس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا

اپنا لڑنا بھی محبت ھے تمھیں علم نہیں
چیختی تم رھی اور میرا گلہ بیٹھ گیا

اس کی مرضی وہ جسے پاس بیٹھا کے اپنے
اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا

بات دریاؤں کی سورج کی نہ تیری ھے یہاں
دو قدم جو بھی میرے ساتھ چلا بیٹھ گیا

بزمِ جاناں میں نشستیں  نہیں  ہوتی مخصوص
جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...