Friday, 20 April 2018

تو بچھڑ رھا ھے تو سوچ لے تیرے ھاتھ ھے میری زندگی تجھے روکنا میری موت ھے ، میری بے بسی کا خیال کر

نہ بجھا چراغ دیار دل نہ بچھڑنے کا تو ملال کر
تجھے دے گی جینے کا حوصلہ میری یاد رکھ لے سنبھال کر

یہ بھی کیا کہ ایک ھی شخص کو کبھی سوچنا کبھی بھولنا
جو نہ بجھ سکے وہ دیا جلا جو نہ ھو سکے وہ کمال کر

غم آرزو مری جستجو میں سمٹ کے آ گیا روبرو
یہ سکوت مرگ ھے کس لئے ، میں جواب دوں تو سوال کر

تو بچھڑ رھا ھے تو سوچ لے تیرے ھاتھ ھے میری زندگی
تجھے روکنا میری موت ھے ، میری بے بسی کا خیال کر

یہ جو ایک ساعت وصل ھے ، سر سطح ذہن جمی ھوئی
اسی ایک ساعت وصل کو کبھی ماہ کر کبھی سال کر

میرے درد کا ، میرے ضبط کا ، میری بے بسی ، میرے صبر کا
جو یقیں نہ آئے تو دیکھ لے تو ھوا میں پھول اچھال کر

تیری سرحدوں پہ میں کیوں رکوں ، مجھے روک مت ، مجھے جانے دے
میری ساری عمر سفر کی ھے مجھے اس قدر نہ نڈھال کر

جو خوشی ملی وہ قبول کر، مجھے چھوڑ دے ، مجھے بھول جا
میں ھوں جاذب ستم آشنا ، تو بس اپنے گھر کا خیال کر

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...