نہ بجھا چراغ دیار دل نہ بچھڑنے کا تو ملال کر
تجھے دے گی جینے کا حوصلہ میری یاد رکھ لے سنبھال کر
یہ بھی کیا کہ ایک ھی شخص کو کبھی سوچنا کبھی بھولنا
جو نہ بجھ سکے وہ دیا جلا جو نہ ھو سکے وہ کمال کر
غم آرزو مری جستجو میں سمٹ کے آ گیا روبرو
یہ سکوت مرگ ھے کس لئے ، میں جواب دوں تو سوال کر
تو بچھڑ رھا ھے تو سوچ لے تیرے ھاتھ ھے میری زندگی
تجھے روکنا میری موت ھے ، میری بے بسی کا خیال کر
یہ جو ایک ساعت وصل ھے ، سر سطح ذہن جمی ھوئی
اسی ایک ساعت وصل کو کبھی ماہ کر کبھی سال کر
میرے درد کا ، میرے ضبط کا ، میری بے بسی ، میرے صبر کا
جو یقیں نہ آئے تو دیکھ لے تو ھوا میں پھول اچھال کر
تیری سرحدوں پہ میں کیوں رکوں ، مجھے روک مت ، مجھے جانے دے
میری ساری عمر سفر کی ھے مجھے اس قدر نہ نڈھال کر
جو خوشی ملی وہ قبول کر، مجھے چھوڑ دے ، مجھے بھول جا
میں ھوں جاذب ستم آشنا ، تو بس اپنے گھر کا خیال کر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment