Saturday, 19 May 2018

گھر جو ٹوٹا تو گیے ماں کی طرف ہی بچے، مُڑ کے دیکھا ہی نہیں باپ کی شفقت کی طرف۔۔


دھیان رہتا ہے تیرے غم کی عنایت کی طرف۔۔
کیسے جائیں گے کسی اور کی چاہت کی طرف۔۔
بات نکلے گی تو سب تیری طرف دیکھیں گے،
مجھ کو آنے ہی نہیں دیں گے وضاحت کی طرف۔۔
نا مناسب تھا مگر میں نے مسلسل دیکھا،
تھی جو اک تم سے مشابہ، اُسی صورت کی طرف۔۔
گھر جو ٹوٹا تو گیے ماں کی طرف ہی بچے،
مُڑ کے دیکھا ہی نہیں باپ کی شفقت کی طرف۔۔
جس کی بنیاد میں پتھر نہ کسی جرم کا ہو،
لے چلے کوئی ہمیں ایسی عمارت کی طرف۔۔
ایک عورت کو سمجھنے کے لئے کم ہے حیات،
کس طرح آئے ہو تم دوسری عورت کی طرف۔۔
منزلِ عشق ہے دشوار مگر عزمِ سفر،
دل نے رکھا ہے اُسی کوئے ملامت کی طرف۔۔

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...