زمیں پہ بوجھ تھے، کیا زیرِ آسماں رہتے
یہ کائنات پرائی تھی، ہم کہاں رہتے
ہم ایسے بے سروساماں جہانِ امکاں میں
ہزار سال بھی رہتے، تو بے نشاں رہتے
جو ہم لہو کی شہادت بھی پیش کر دیتے
جو بدگماں تھے، بہرحال بدگماں رہتے
کوئی فریبِ وفا ہی میں مبتلا رکھتا !
تو اُس کے جور و جفا پر بھی شادماں رہتے
پُکارتا جو کوئی سُوئے دار بھی دل سے
تو نقدِ جان لئے، سر بہ کف رَواں رہتے
کسی کے ایک اشارے پہ جل بُجھے ہوتے
بَلا سے بعد کے منظر دُھواں دُھواں رہتے
مگر، یہ سود و زیاں کا جہان تھا عاجزؔ
یہاں خلوص کے سجدے بھی رائیگاں رہتے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment