Sunday, 6 May 2018

ہم ایسے بے سروساماں جہانِ امکاں میں ہزار سال بھی رہتے، تو بے نشاں رہتے

زمیں پہ بوجھ تھے، کیا زیرِ آسماں رہتے
یہ کائنات پرائی تھی، ہم کہاں رہتے

ہم ایسے بے سروساماں جہانِ امکاں میں
ہزار سال بھی رہتے، تو بے نشاں رہتے

جو ہم لہو کی شہادت بھی پیش کر دیتے
جو بدگماں تھے، بہرحال بدگماں رہتے

کوئی فریبِ وفا ہی میں مبتلا رکھتا !
تو اُس کے جور و جفا پر بھی شادماں رہتے

پُکارتا جو کوئی سُوئے دار بھی دل سے
تو نقدِ جان لئے، سر بہ کف رَواں رہتے

کسی کے ایک اشارے پہ جل بُجھے ہوتے
بَلا سے بعد کے منظر دُھواں دُھواں رہتے

مگر، یہ سود و زیاں کا جہان تھا عاجزؔ
یہاں خلوص کے سجدے بھی رائیگاں رہتے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...