حدوں سے بڑھ کے مکمل حدود سونپتا ہوں...
تری تھکن کو میں اپنا وجود سونپتا ہوں...
رگوں میں خون کی حدت سے خشک سالی ہے...
میں اس روانی کو رسم_جمود سونپتا ہوں...
وہ مجھ سے دور تو میں اس سے دور ہونے لگا...
میں برگزیدہ اذیت کو سود سونپتا ہوں...
میں سونپ دینے کی منزل تلک نہیں پہنچا...
مگر کسی کو قیام و سجود سونپتا ہوں...
وہ بے زبان خدا کر رہا تھا سرگوشی...
میں معرفت کے تناسب سے جود سونپتا ہوں...
تو کیا یہ لفظ بھی خالی ہیں معنویت سے...
زبور_جسم کو روح_داؤد سونپتا ہوں...
مرا وجود مدینہ شمار ہوتا ہے...
میں جب بھی دل سے دہن کو درود سونپتا ہوں...
نبی کا بیٹا ہوں نسبت ہے معتبر میری...
کسی کو فقر کسی کو نمود سونپتا ہوں...
عیاں بھی ہونا ہے لیکن نہاں بھی رہنا ہے...
سو غائبانہ ادا کو ورود سونپتا ہوں...
مجھے ہے خوف زمانہ نہ نیچے دب جائے...
میں اپنے سر کا فلک کو عمود سونپتا ہوں...
تو میری آنکھ کے حجرے میں لوٹ آئے گا...
میں تجھکو دونوں جہاں کی حدود سونپتا ہوں...
تو، دیکھنے کا ارادہ تو باندھ اے کاظم...
میں تیری آنکھ کو رمز_شہود سونپتا ہوں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment