Thursday, 10 May 2018

واعظ ! میں کوئی چور ہوں جو تجھ سے دبوں گا؟ منہ توڑ کے رکھ دوں گا اگر تلخ ہوا تو .



واعظ ! میں کوئی چور ہوں جو تجھ سے دبوں گا؟
منہ  توڑ  کے  رکھ  دوں  گا  اگر  تلخ  ہوا  تو
.
حیران نہ ہو خستہ تنی دیکھ کے میری
میں ٹھیک ہوں ،سب خیر ہے ،بس اپنی سنا تو
.
میں جانتا ہوں کس نے کہاں گرد اڑائی
یہ قصے میاں اور کہیں جا کے سنا تو
.
گلیوں میں پھرا بھی ہے کبھو چاک گریباں ؟
تو ؟ اور کہے میر سا خود کو ؟ ابے جا تو
.
جو خود سے ملا ،سچ ہے ،ملا عین خدا سے
ملنا ہے خدا سے تو خودی اپنی گنوا تو
.
سالک ہے تو کیا راہ کی سختی کی شکایت
عاشق ہے تو پھر کیوں نہیں راضی بہ رضا تو ؟
.
صورت پہ مجھے اپنی کیا خلق جو تو نے
پھر پہلا طلب گار بتا میں ہوا یا تو؟

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...