کوزہ گر سے نہ سہی پر چاک سے نسبت تو ہے
خاک بھی نجمی نہیں پر خاک سے نسبت تو ہے
خلد سے آیا ہوں میں اس میں تو کوئی شک نہیں
میں زمیں پر ہی سہی افلاک سے نسبت تو ہے
گو نہیں سمجھا مجھےپر شعر سمجھے ہے مرے
کچھ مرے کج فہم کو ادراک سے نسبت تو ہے
میں رجز خوانی کا قائل تو نہیں لیکن مجھے
اپنے پرکھوں کی بھی اونچی ناک سے نسبت تو ہے
ہے سیاہ پوشوں میں کعبہ اس پہ بھی فتوی لگا
کالی کملی کی بھی اس پوشاک سے نسبت تو ہے
صحبتیں پہچان بن جاتی ہیں نجمی سوچ لے
تو نہیں پر تیری اک چالاک سے نسبت تو ہے
No comments:
Post a Comment