Wednesday, 16 May 2018

ہے سیاہ پوشوں میں کعبہ اس پہ بھی فتوی لگا کالی کملی کی بھی اس پوشاک سے نسبت تو ہے



کوزہ گر سے نہ سہی پر چاک سے نسبت تو ہے
خاک بھی نجمی نہیں پر خاک سے نسبت تو ہے
خلد سے آیا ہوں میں اس میں تو کوئی شک نہیں
میں زمیں پر ہی سہی افلاک سے نسبت تو ہے
گو نہیں سمجھا مجھےپر شعر سمجھے ہے مرے
کچھ مرے کج فہم کو ادراک سے نسبت تو ہے
میں رجز خوانی کا قائل تو نہیں لیکن مجھے
اپنے پرکھوں کی بھی اونچی ناک سے نسبت تو ہے
ہے سیاہ پوشوں میں کعبہ اس پہ بھی فتوی لگا
کالی کملی کی بھی اس پوشاک سے نسبت تو ہے
صحبتیں پہچان بن جاتی ہیں نجمی سوچ لے
تو نہیں پر تیری اک چالاک سے نسبت تو ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...