Wednesday, 23 May 2018

مجھے معلوم تھا وہ داستاں کے آخر میں ہاتھ سے کھینچ لے گا اپنی کلائی واپس


یار نے گال سے جب زلف ہٹائی  واپس
آنکھ چندھیا سی گئی  ،دیکھ نہ پائی واپس
کاش !میں  پھر سے کبھی چاند پہ چرخہ دیکھوں!
کاش ! لوٹ آئے کبھی "چاند کی مائی" واپس!
چھین لے مجھ سے مرا عیش اور آرام سبھی
مجھ کو دے دے مری" دستارِ گدائی" واپس
اِس میں بھی تیری ہی صحبت کا اثر ہے صاحب!
یاد کب تیری طرح لوٹ کر آئی واپس
مار اِک بار زمانے کی جس نے کھائی ہو
اُس نے پھر مار زمانے کی نہ کھائی واپس
تُو نے بس آگ لگانی تھی، تجھے کیا معلوم؟
کتنے اشکوں کے عوض  آگ بجھائی واپس
تُو نے جو جان عطا کی ہے، خدائی ہے تری
کھیل اب کر دے ختم! لے لے خدائی واپس
وصل میں ہجر کی باتوں سے کہیں بہتر ہے
مانگ لیتے ہیں علیؔ پھر سے  جدائی واپس
مجھے معلوم تھا وہ  داستاں کے آخر میں
ہاتھ سے کھینچ لے گا اپنی کلائی واپس
دیکھ لوقبر میں جی بھر کے علیؔ کا چہرہ!
اب نہ آوے گا کبھی عشق کا داعی واپس
...
علیؔ سرمد

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...