Sunday, 20 May 2018

نو لاکھ سمجھتے تھے کہ شبیر ہے باغی اور وہ تھا کہ سجدے کی جگہ سوچ رہا تھا

وہ درد کی اقصیٰ پہ کھڑا سوچ رہا تھا
خیموں کو بچانے کی دعا سوچ رہا تھا
نو لاکھ سمجھتے تھے کہ شبیر ہے باغی
اور وہ تھا کہ سجدے کی جگہ سوچ رہا تھا
توحید کی مرضی تھی کہ شبیر ہو راضی
شبیر سکینہ کی رضا سوچ رہا تھا
شہہ رگ پہ اترتی ہوئی ضربوں پہ تبسم ؟
خنجر تلے بندہ ہے ؟ خدا سوچ رہا تھا
تھے شامِ غریباں کے سبھی درد نظر میں
پھر بھول کے ضربوں کو وہ کیا سوچ رہا تھا
غازی جو نہیں ہے تو میرا سر ہے سناں پہ
اب کون بچائے گا ردا سوچ رہا تھا
خیرات ہے شبیر کی حیدرؔ یہ زمانہ
پھر کتنی بڑی ہو گی عطا سوچ رہا تھا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...