🏁 ریڈ پن پوسٹ 🏁
اہلِ طُوفاں! آؤ دِل والوں کا افسانہ کہیں
موج کو گیسُو، بھنوَر کو چشمِ جانانہ کہیں
دار پر چڑھ کر، لگا ئیں نعرۂ زُلفِ صَنم!
سب، ہمیں باہوش سمجھیں چاہے دِیوانہ کہیں
یارِ نکتہ داں کدھر ہے، پھر چلیں اُس کے حضوُر
زندگی کو دِل کہیں اور دِل کو نذرانہ کہیں
تھامیں اُس بُت کی کلائی اور کہیں اُس کو جنوُں
چُوم لیں مُنہ اور اُسے انداز ِرِندانہ کہیں
پارۂ دِل ہے وطن کی سرزِمیں، مشکل یہ ہے
شہر کو وِیران ، یا اِس دِل کو وِیرانہ کہیں
اے رُخِ زیبا! بتا دے اور ابھی ہم کب تلک
تِیَرگی کو شمع، تنہائی کو پروانہ کہیں
آرزو ہی رہ گئی مجرُوحؔ ! کہتے ہم کبھی
اِک غزل ایسی، جِسے تصویرِ جانانہ کہیں
.
مجرُوؔح سُلطانپوری 🏁
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment