Monday, 15 July 2019

وقت بتلاتی نہیں یاد دلاتی ہے مجھے آپ کی یہ گھڑی سرکار مجھے کاٹتی ہے


اک تو یہ ہجر کی تلوار مجھے کاٹتی ہے
میری سگریٹ بھی لگاتار مجھے کاٹتی ہے
ایک چھت ہے جو ٹپکتی نہیں ہے روتی ہے
ایک بوسیدہ سی دیوار مجھے کاٹتی ہے
شب کا سنّاٹا شدید اس پہ گھڑی کی ٹک ٹک
ایک آواز کی تکرار مجھے کاٹتی ہے
مجھ میں کیا ہے جو نکالے گی مرے اندر سے
سو یہ تنہائی تو بے کار مجھے کاٹتی ہے
وقت بتلاتی نہیں یاد دلاتی ہے مجھے
آپ کی یہ گھڑی سرکار مجھے کاٹتی ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...