Friday, 2 August 2019

لگتا ہے مدینے میں عمر گھوم رہا ہے


راتوں میں لیے چشمِ ہنر گھوم رہا ہے
لگتا ہے مدینے میں عمر گھوم رہا ہے
کیا تیرے جوابات سے بہلاؤں میں دل کو
اپنے ہی سوالات پہ سر گھوم رہا ہے
وہ حال کہ حالات کا بھی علم نہیں کچھ
سَر درد زیادہ ہے کہ گھر گھوم رہا ہے
یا لوگ سنبھل پائے نہیں بھوک سے اپنی
یا طرّہ ء پندار سے در گھوم رہا ہے
جس حال میں تُو وقتِ ازل چھوڑ گیا تھا
اُس وقت سے اک شخص اُدھر گھوم رہا ہے
تقلید کی چرخی سے لپٹ کر یہ قبیلہ
اک سیدھ میں چلتا ہے مگر گھوم رہا ہے
جو عشق میسر ہی نہیں دل کو مگر ذہن
اُس عشق ہی کے زیرِ اثر گھوم رہا ہے
لگتا ہے کہ مانوس ہیں فاتح سے یہاں لوگ
اس شان سے بازار میں ڈر گھوم رہا ہے
مدثر عباس

ڈوب جاتا ہوں کسی موج کی طغیانی میں ایسے جیسے کسی دریا میں جواں ڈوبتا یے


نقش ِ بر آب کناروں کےمیاں ڈوبتا ہے
آنکھ سیلاب اٹھائے تو جہاں ڈوبتا ہے
مردہ اجسام تہہِ آب نہیں رہ سکتے
ابھی زندہ ہے مرا دل کہ سماں ڈوبتا ہے
حکم آیا ہے کہ چڑیاں نہ چہکنے پائیں
یہ چہکتی ہیں تو پھر شورِ سگاں ڈوبتا ہے
سیلِ ادراک ہے یہ اور یہاں موجوں میں
وہ تموج ہے کہ مینارِ گماں ڈوبتا ہے
ڈوب جاتا ہوں کسی موج کی طغیانی میں
ایسے جیسے کسی دریا میں جواں ڈوبتا یے
تیرنے والے بچاتے ہی نہیں ڈوبتے کو
فقط آواز لگاتے ہیں فلاں ڈوبتا ہے
زن زمیں زر سے بناتا ہے وہ برمودہ تکون
جو بھی جاتا ہے مری جان وہاں ڈوبتا ہے

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...