Friday, 2 August 2019

لگتا ہے مدینے میں عمر گھوم رہا ہے


راتوں میں لیے چشمِ ہنر گھوم رہا ہے
لگتا ہے مدینے میں عمر گھوم رہا ہے
کیا تیرے جوابات سے بہلاؤں میں دل کو
اپنے ہی سوالات پہ سر گھوم رہا ہے
وہ حال کہ حالات کا بھی علم نہیں کچھ
سَر درد زیادہ ہے کہ گھر گھوم رہا ہے
یا لوگ سنبھل پائے نہیں بھوک سے اپنی
یا طرّہ ء پندار سے در گھوم رہا ہے
جس حال میں تُو وقتِ ازل چھوڑ گیا تھا
اُس وقت سے اک شخص اُدھر گھوم رہا ہے
تقلید کی چرخی سے لپٹ کر یہ قبیلہ
اک سیدھ میں چلتا ہے مگر گھوم رہا ہے
جو عشق میسر ہی نہیں دل کو مگر ذہن
اُس عشق ہی کے زیرِ اثر گھوم رہا ہے
لگتا ہے کہ مانوس ہیں فاتح سے یہاں لوگ
اس شان سے بازار میں ڈر گھوم رہا ہے
مدثر عباس

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...