Monday, 7 October 2019

ہموار کھینچ کر، کبھی دُشوار کھینچ کر تنگ آ چُکا ہوں سانس لگاتار کھینچ کر

ہموار کھینچ کر، کبھی دُشوار کھینچ کر
تنگ آ چُکا ہوں سانس لگاتار کھینچ کر ــــــــ!!

اُکتا چُکا یہ دل بھی، نظر بھی، میں آپ بھی
مُدّت سے تیری حســرتِ دیدار کھینچ کـــــر.....

خاطر میں کچھ نہ لائے گا یہ سائلِ عشق ہے
تم کیوں روکتے ھو ریت کی دیوار کھینچ کر,,,,,

میدان میں اگر نہ آتا میں تلوار کھینچ کر
لے جاتے لوگ مصر کے بازار کھینچ کر...

ہرگز یہ ایسے ماننے والی نہیں میاںؔ
دُنیا کو دو لگا سرِ بــازار کھینچ کـــر

Thursday, 3 October 2019

حرف پاروں میں سلگتا ہوا غم ہے تُو ہے راکھ ہوتی ہوئی سگریٹ کا دھواں ہے میں ہوں!


ایک حسرت ہے، اندھیرا ہے، فغاں ہے، میں ہوں!
رات اجڑے ہوئے کمرے میں رواں ہے، میں ہوں!
ان خد و خال پہ اتری ہوئی وحشت کو سمجھ!
آئنے تجھ میں کوئی اور کہاں ہے میں ہوں!
ماند ہوتے ہوئے سایوں کے جلو میں لرزاں
یہ جو اک شخص مرے ہمسفراں ہے میں ہوں!
حرف پاروں میں سلگتا ہوا غم ہے تُو ہے
راکھ ہوتی ہوئی سگریٹ کا دھواں ہے میں ہوں!
چند بکھرے ہوئے اوراق مری میز پہ ہیں
نوحہ ء سینہ ء غفلت زدگاں ہے، میں ہوں!
اڑتا پھرتا ہوں بگولا سا زمیں تا بہ فلک
ایک غم ہے جو کہیں خانہ بجاں ہے میں ہوں!
خستگی تیرا برا ہو کہ بدل ڈالا مجھے
لوگ کہتے ہیں فلاں ابن فلاں ہے، میں ہوں !

Tuesday, 1 October 2019

پانی مقدار میں کم آنے لگے تو سمجھو آنکھ ابرو کے مساموں سے ہوا کھنچتی ہے


اک تناسب سے مجھے خلق خدا کھینچتی ہے
ڈھیل دیتی ہے ذرا اور ذرا کھینچتی ہے
پانی مقدار میں کم آنے لگے تو سمجھو
آنکھ ابرو کے مساموں سے ہوا کھنچتی ہے
بھیڑ میں ہاتھ چھڑاؤں تو سگی ماں کی طرح
بدّدعا دے کے مجھے کوئی دعا کھینچتی ہے
اے مری شاعری ! میں یوسف ثانی تو نہیں
کیوں زلیخا کی طرح میری قبا کھینچتی ہے
مجھ سے زندان کے عادی کو خبر کیا کہ ہوا
سانس لینے میں مدد کرتی ہے یا کھینچتی ہے
ایک جیسی ہے خدا کی بھی ، غزل کی بھی زمیں
اپنے دامن میں سبھی کو یہ بلا کھینچتی ہے
افضل خان

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...