Thursday, 3 October 2019

حرف پاروں میں سلگتا ہوا غم ہے تُو ہے راکھ ہوتی ہوئی سگریٹ کا دھواں ہے میں ہوں!


ایک حسرت ہے، اندھیرا ہے، فغاں ہے، میں ہوں!
رات اجڑے ہوئے کمرے میں رواں ہے، میں ہوں!
ان خد و خال پہ اتری ہوئی وحشت کو سمجھ!
آئنے تجھ میں کوئی اور کہاں ہے میں ہوں!
ماند ہوتے ہوئے سایوں کے جلو میں لرزاں
یہ جو اک شخص مرے ہمسفراں ہے میں ہوں!
حرف پاروں میں سلگتا ہوا غم ہے تُو ہے
راکھ ہوتی ہوئی سگریٹ کا دھواں ہے میں ہوں!
چند بکھرے ہوئے اوراق مری میز پہ ہیں
نوحہ ء سینہ ء غفلت زدگاں ہے، میں ہوں!
اڑتا پھرتا ہوں بگولا سا زمیں تا بہ فلک
ایک غم ہے جو کہیں خانہ بجاں ہے میں ہوں!
خستگی تیرا برا ہو کہ بدل ڈالا مجھے
لوگ کہتے ہیں فلاں ابن فلاں ہے، میں ہوں !

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...