Saturday, 28 December 2019

کہ راجہ مر چکا ہے اور شہزادے جواں ہیں یہ رانی کس طرح اپنی جوانی کاٹتی ہے



کوئی سمجھاؤ دریا کی روانی کاٹتی ہے
کہ میرے سانس کو تشنہ دہانی کاٹتی ہے
میں باہر تو بہت اچھا ہوں پر اندر ہی اندر
مجھے کوئی بلائے ناگہانی کاٹتی ہے
میں دریا ہوں مگر کتنا ستایا جا رہا ہوں
کہ بستی روز آ کے میرا پانی کاٹتی ہے
زمیں پر ہوں مگر کٹ کٹ کے گرتا جا رہا ہوں
مسلسل اک نگاہ آسمانی کاٹتی ہے
میں کچھ دن سے اچانک پھر اکیلا پڑ گیا ہوں
نئے موسم میں اک وحشت پرانی کاٹتی ہے
کہ راجہ مر چکا ہے اور شہزادے جواں ہیں
یہ رانی کس طرح اپنی جوانی کاٹتی ہے
نظر والو تمہاری آنکھ سے شکوہ ہے مجھ کو
زباں والو تمہاری بے زبانی کاٹتی ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...