Thursday, 5 March 2020

بات کرتے ہیں تو اوقات بتا دیتے ہیں لوگ کردار سے اب ذات بتا دیتے ہیں


بات کرتے ہیں تو اوقات بتا دیتے ہیں
لوگ کردار سے اب ذات بتا دیتے ہیں
وہ اشارے سے ہمیں کہتے ہیں پرچہ تو دکھا
ھم بھی سادہ ہیں سوالات بتا دیتے ہیں
بات اوروں کی اگر ہو تو ہیں نقاد مگر
لوگ بس اپنے کمالات بتا دیتے ہیں
جن کو توہینِ محبت کا بھی ادراک نہیں
ھم اُنھیں عزتِ سادات بتا دیتے ہیں
جب کوئی کہتا ھے سب دل کی کہانی کہہ دو
ھم بھی فنکار ہیں حالات بتا دیتے ہیں
یہ سیاست کے جو مہرے ہیں انھیں خوف نہیں
دن کبھی نکلے تو یہ رات بتا دیتے ہیں..

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...