اشک اترے تو سرِ در ہی سجا لی وحشت
راستہ چھوڑ دیا، راہ میں پا لی وحشت
اب یہ سوچا کہ اکیلے نہیں رہنا میں نے
رونقِ دل کے لئے گھر ہی بلا لی وحشت
یہ بھی ہے سچ کہ کسی سے نہیں ڈرتا لیکن
آپ کے نام نے دل میں مرے ڈالی وحشت
دو مجھے ہجر میں چپ چاپ اذیت کا سبق
سیکھ لوں میں بھی محبت کی خیالی وحشت
ایک اک لمس جلاتا رہا لمحوں کا مجھے
ایک تو درد ہے، پھر رات کی کالی وحشت
ہم نے رہنے نہیں دینا کسی ہمسر کو خفا
آج دل آیا تو منت سے منا لی وحشت
فرق اتنا ہے کہ آتا نہیں اک پل کو یقیں
ہاں مگر تم نے گماں میں بھی بسا لی وحشت
روز الجھے ہوئے گیسو نہیں سلجھا کرتے
روز پالی نہیں جاتی یہ وبالی وحشت
آؤ آغازِ اذیت کے ہی چرچے کر لیں
یوں بھی تو ہوتی ہے انجام سے خالی وحشت
آسماں نے مجھے دھتکار نکالا باقی
اور جنت نے ہے دل میں مرے ڈالی وحشت
وجاہت باقی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment