Tuesday, 30 June 2020

روز الجھے ہوئے گیسو نہیں سلجھا کرتے روز پالی نہیں جاتی یہ وبالی وحشت

اشک اترے تو سرِ در ہی سجا لی وحشت
راستہ چھوڑ دیا، راہ میں پا لی وحشت

اب یہ سوچا کہ اکیلے نہیں رہنا میں نے
رونقِ دل کے لئے گھر ہی بلا لی وحشت

یہ بھی ہے سچ کہ کسی سے نہیں ڈرتا لیکن
آپ کے نام نے دل میں مرے ڈالی وحشت

دو مجھے ہجر میں چپ چاپ اذیت کا سبق
سیکھ لوں میں بھی محبت کی خیالی وحشت

ایک اک لمس جلاتا رہا لمحوں کا مجھے
ایک تو درد ہے، پھر رات کی کالی وحشت

ہم نے رہنے نہیں دینا کسی ہمسر کو خفا
آج دل آیا تو منت سے منا لی وحشت

فرق اتنا ہے کہ آتا نہیں اک پل کو یقیں
ہاں مگر تم نے گماں میں بھی بسا لی وحشت

روز الجھے ہوئے گیسو نہیں سلجھا کرتے
روز پالی نہیں جاتی یہ وبالی وحشت

آؤ آغازِ اذیت کے ہی چرچے کر لیں
یوں بھی تو ہوتی ہے انجام سے خالی وحشت

آسماں نے مجھے دھتکار نکالا باقی
اور جنت نے ہے دل میں مرے ڈالی وحشت

وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...