Thursday, 4 June 2020

سب نے آ آ کے مرا ذہنی توازن چھیڑا لوگ جو جو بھی محبت سے اتارے دل میں

آلِ عمر

ایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میں
اس کو رہنا ہی نہیں آیا ہمارے دل میں

سب نے آ آ کے مرا ذہنی توازن چھیڑا
لوگ جو جو بھی محبت سے اتارے دل میں

تُو نے کیا جرم کیا ہوگا جو میں رہتا رہا
اتنا عرصہ مرے چندا ترے پیارے دل میں

تیرا رونا ترے کچھ کام نہیں آئے گا دوست
سبز بتی پہ نہیں کُھلتے اشارے دل میں

کوئی دو چار نئے زخم کہ رَش پڑ جائے
صرف اک ڈر رہا کرتا ہے بیچارے دل میں

سچے دل والی مرے حجرے میں رہتی ہے حضور
میٹھے پانی کا کنواں ہے مرے کھارے دل میں

میرا اللہ مرے ساتھ ہے، وہ جانتی ہے
اس نے ڈرتے ہوئے چلوائے ہیں آرے دل میں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...