Tuesday, 7 July 2020

خاک کو خاک بناتی ہے چلو مان لیا موت لیکن لب و رخسار کہاں پھینکتی ہے

واجد امیر

رائیگانی تو مرے خواب کہاں پھینکتی ہے
کیا وہیں؟ خلق جہاں کارِ زیاں پھینکتی ہے

گھر کا آنگن کوئ مدفن تو بہاروں کا نہیں
زرد پتّے یہاں کیوں لا کے خزاں پھینکتی ہے

اک سمندر ہے جہاں سیپ پنپتے ہی نہیں
آستیں پونچھے ہوئے اشک وہاں پھینکتی ہے

خاک کو خاک بناتی ہے چلو مان لیا
موت لیکن لب و رخسار کہاں پھینکتی ہے

دل کے بازار میں پہلے سے ہے مندی کا چلن
کیوں محبت یہاں سرمایۂ جاں پھینکتی ہے

کچھ تو قدموں سے لپٹ رہتے ہیں سائے کی طرح
روشنی سارے اندھیرے بھی کہاں پھینکتی ہے

کیسۂ خاص میں رکھتی ہے یقیں کے سکّے
عقل اوروں کی طرح وہم و گماں پھینکتی ہے

Monday, 6 July 2020

تم گئے ہو تو سر شام یہ عادت ٹھہری بس کنارے پہ کھڑے ہاتھ ہلاتے رہنا

لاکھ دوری ہو مگر عہد نبھاتے رہنا
جب بھی بارش ہو میرا سوگ مناتے رہنا

تم گئے ہو تو سر شام یہ عادت ٹھہری
بس کنارے پہ کھڑے ہاتھ ہلاتے رہنا

جانے اس دل کو یہ آداب کہاں سے آئے
اس کی راہوں میں نگاہوں کو بچھاتے رہنا

ایک مدت سے یہ معمول ہوا ہے اب تو
آپ ہی روٹھنا اور آپ مناتے رہنا

تم کو معلوم ہے فرحت کہ یہ پاگل پن ہے
دور جاتے ہوئے لوگوں کو بلاتے رہنا

فرحت عباس شاہ

Sunday, 5 July 2020

اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے
پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے

تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی
تیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے

کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہے
ایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے

یار ہوا سے کیسے آگ بھڑک اٹھتی ہے
لفظ کوئی انگارا کیسے ہو سکتا ہے

کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے
درد کسی کو پیارا کیسے ہو سکتا ہے

ہم بھی کیسے ایک ہی شخص کے ہو کر رہ جائیں
وہ بھی صرف ہمارا کیسے ہو سکتا ہے

کیسے ہو سکتا ہے جو کچھ بھی میں چاہوں
بول نا میرے یارا کیسے ہو سکتا ہے

Friday, 3 July 2020

ﮨﻢ ﺍﻧﺎ ﺯﺍﺩﻭﮞ کی ﺗﺮﺑﻴﺖ ﺍﻭﺭ ہے ﮨﻢ ﺟﮭﮑﺎﺗﮯ ﻧﮩﻴﮟ ﮨﻴﮟ ﺟﺒﻴﮟ ،ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﮨﻢ ﻓﻘﻴﺮﻭﮞ کی ﺳﺐ کے ﺗﺌﻴﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ
ﻣﻌﺬﺭﺕ ! ﺑﺲ ﺩﻡِ ﻭﺍﭘﺴﻴﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﮨﻢ سفر ! ﭘﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﻠﺘﮯ ﻧﮩﻴﮟ
ﮨﻢ ﺳﻔﺮ ! ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﺮ لوں ﻳﮩﻴﮟ ،ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﺟﺲ کی ﻗﻴﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺁﭖ ﺁﮰ ﮨﻴﮟ
ﻭﮦ ﮐﻮئی ﺍﻭﺭ ہے! ﻣﻴﮟ ﻧﮩﻴﮟ !! ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﮨﻢ ﺍﻧﺎ ﺯﺍﺩﻭﮞ کی ﺗﺮﺑﻴﺖ ﺍﻭﺭ ہے
ﮨﻢ ﺟﮭﮑﺎﺗﮯ ﻧﮩﻴﮟ ﮨﻴﮟ ﺟﺒﻴﮟ ،ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﺟﯽ ﻣﻴﮟ ﺁﺗﺎ ھے ﮔﮭﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭﮞ ﺍﻳﮏ ﺷﺐ
ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﻴﮟ ﻟﮑﮫ ﺩﻭﮞ ﮐﮩﻴﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﮨﻢ ﻧﮯ ﺭﮐﻨﺎ ﻧﮩﻴﮟ ﺭﮐﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮ ! ﻣﮕﺮ
ﻋﺎﻓﻴﺖ ! ﺗﮩﻨﻴﺖ ! ﺁﻓﺮﻳﮟ ! ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﻣﻴﮟ ﺗﺮﮮ ﺑﺎﺏ ﻣﻴﮟ کچھ ﻧﮩﻴﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ
ﻣﻌﺬﺭﺕ ! ﺍﮮ ﺩﻝِ ﺧﻮش ﻳﻘﻴﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﮨﻢ ﮐﮩﻴﮟ کے ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﮩﻴﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﮯ
ﺍﮮ ﻓﻠﮏ ﺍﻋﺘﺰﺍﺭ ! ﺍﮮ ﺯﻣﻴﮟ ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﻃﺎﻟﺐِ ﺧﻮﺩ ﻓﺮﻭﺷﯽ کے ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﻴﮟ
ﻣﻴﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻟﮑﮫ ﺩﻭ ،ﻧﮩﻴﮟ ! ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﺩﻋﻮﺗﻴﮟ ﺩﻭ ﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻳﮏ ہے
ﺍﮨﻞِ ﺩﻝ ﺷﮑﺮﻳﮧ ! ﺍﮨﻞِ ﺩﻳﮟ ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﺍﻓﺘﺨﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﺲ ﺍﮎ ﺩﻋﺎﮰ ﺍﺑﺪ
ﺍﻓﺘﺨﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﮎ ﺁﺧﺮﻳﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ

Wednesday, 1 July 2020

میں کم ہی رہتا ہوں انجمؔ خدا کی صحبت میں گناہ گار کو خوف خدا مصیبت ہے

چراغ ہاتھ میں ہو تو ہوا مصیبت ہے
سو مجھ مریض انا کو شفا مصیبت ہے

سہولتیں تو مجھے راس ہی نہیں آتیں
قبولیت کی گھڑی میں دعا مصیبت ہے

اٹھائے پھرتا رہا میں بہت محبت کو
پھر ایک دن یوں ہی سوچا یہ کیا مصیبت ہے

میں آج ڈوب چلا ریت کے سمندر میں
چہار سمت یہ رقص ہوا مصیبت ہے

خود آگہی کا جو مجھ پر نزول جاری ہوا
میں کیا کہوں کہ یہ رحمت ہے یا مصیبت ہے

بہت جچا ہے یہ بے داغ پیرہن مجھ پر
گو خاک زاد کو ایسی قبا مصیبت ہے

میں کم ہی رہتا ہوں انجمؔ خدا کی صحبت میں
گناہ گار کو خوف خدا مصیبت ہے

انجم سلیمی

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...