Tuesday, 7 July 2020

خاک کو خاک بناتی ہے چلو مان لیا موت لیکن لب و رخسار کہاں پھینکتی ہے

واجد امیر

رائیگانی تو مرے خواب کہاں پھینکتی ہے
کیا وہیں؟ خلق جہاں کارِ زیاں پھینکتی ہے

گھر کا آنگن کوئ مدفن تو بہاروں کا نہیں
زرد پتّے یہاں کیوں لا کے خزاں پھینکتی ہے

اک سمندر ہے جہاں سیپ پنپتے ہی نہیں
آستیں پونچھے ہوئے اشک وہاں پھینکتی ہے

خاک کو خاک بناتی ہے چلو مان لیا
موت لیکن لب و رخسار کہاں پھینکتی ہے

دل کے بازار میں پہلے سے ہے مندی کا چلن
کیوں محبت یہاں سرمایۂ جاں پھینکتی ہے

کچھ تو قدموں سے لپٹ رہتے ہیں سائے کی طرح
روشنی سارے اندھیرے بھی کہاں پھینکتی ہے

کیسۂ خاص میں رکھتی ہے یقیں کے سکّے
عقل اوروں کی طرح وہم و گماں پھینکتی ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...