واجد امیر
رائیگانی تو مرے خواب کہاں پھینکتی ہے
کیا وہیں؟ خلق جہاں کارِ زیاں پھینکتی ہے
گھر کا آنگن کوئ مدفن تو بہاروں کا نہیں
زرد پتّے یہاں کیوں لا کے خزاں پھینکتی ہے
اک سمندر ہے جہاں سیپ پنپتے ہی نہیں
آستیں پونچھے ہوئے اشک وہاں پھینکتی ہے
خاک کو خاک بناتی ہے چلو مان لیا
موت لیکن لب و رخسار کہاں پھینکتی ہے
دل کے بازار میں پہلے سے ہے مندی کا چلن
کیوں محبت یہاں سرمایۂ جاں پھینکتی ہے
کچھ تو قدموں سے لپٹ رہتے ہیں سائے کی طرح
روشنی سارے اندھیرے بھی کہاں پھینکتی ہے
کیسۂ خاص میں رکھتی ہے یقیں کے سکّے
عقل اوروں کی طرح وہم و گماں پھینکتی ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment