اک آرزو ہے بقایا مری خدا کی طرف
سو قبلہ رو ہوں مگر دل ہے کربلا کی طرف
حُسین تجھ سے محبت پہ فیصلہ ہو گا
ہے کون کون حقیقت میں مصطفی کی طرف
میں کربلا میں نہیں تھا مگر غلام تو ہوں
فرشتو! مجھ کو گنو ابن _ مرتضی کی طرف
طویل رستہ، مصائب، رداۓ پاکیزہ
میں رو کے دیکھتا ہوں عرشِ کبریا کی طرف
چل آ حسین کے حق میں صدا بلند کریں
چل آ صدا سے کریں ابتدا بقا کی طرف
نثار محمود تاثیر
No comments:
Post a Comment