Tuesday, 25 August 2020

حُسین تجھ سے محبت پہ فیصلہ ہو گا ہے کون کون حقیقت میں مصطفی کی طرف

 اک آرزو ہے  بقایا  مری  خدا  کی طرف

سو قبلہ رو ہوں مگر دل ہے کربلا کی طرف

حُسین تجھ سے محبت پہ فیصلہ ہو گا
ہے کون کون حقیقت میں مصطفی کی طرف

میں کربلا میں نہیں تھا مگر غلام تو ہوں
فرشتو! مجھ کو گنو  ابن _ مرتضی کی طرف

طویل رستہ، مصائب، رداۓ پاکیزہ
میں رو کے دیکھتا ہوں عرشِ کبریا کی طرف

چل آ حسین کے حق میں صدا بلند کریں
چل آ صدا سے کریں ابتدا بقا کی طرف

نثار محمود تاثیر

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...