Thursday, 15 March 2018

تمھاری زلف سنورنے میں دیر لگتی ہے
کہ سرد رات کے ڈھلنے میں دیر لگتی ہے
یہ ٹھیک ہے کہ بہت جلد مان جاتا ہے
تمھی کہو کہ مُکرنے میں دیر لگتی ہے
یہ دل نہ ماننا چاہے تو مانتا ہی نہیں
ذرا سی بات سمجھنے میں دیر لگتی ہے
میں جس بلندی پہ بیٹھا ہوا ہوں اے واعظ
مجھے یہاں سے اترنے میں دیر لگتی ہے

کلیم احسان بٹ

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...