Thursday, 15 March 2018

میں جانتا ہوں عدو سےبھی پیارواجب ہے ملن سے پہلے شب انتظار واجب ہے

میں جانتا ہوں عدو سےبھی پیارواجب ہے
ملن سے پہلے شب انتظار واجب ہے
ہمیشہ جیت کے رہنا کوئی کمال نہیں
کبھی کبھی تو حقیقت میں ہار واجب ہے
اے حسن سادہ یہ نکتہ مجھے تو سمجھا دے
کہ دلکشی کےلیے بھی سنگھار واجب ہے ؟
کوئی پئے ، نہ پئے ، مےکشوں کا شیوہ ہے
ہو جام ہاتھ میں تو پھر خمار واجب ہے
برا ہے کیا جو خوشی اپنی بیچتے ہیں ہم
کہ مفلسی میں تو ہر کاروبار واجب ہے
جہاں خلوص ہو عابد فریب کا باعث
وہاں فریب پہ بھی اعتبار واجب ہے
عابد بنوی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...