میں جانتا ہوں عدو سےبھی پیارواجب ہے
ملن سے پہلے شب انتظار واجب ہے
ہمیشہ جیت کے رہنا کوئی کمال نہیں
کبھی کبھی تو حقیقت میں ہار واجب ہے
اے حسن سادہ یہ نکتہ مجھے تو سمجھا دے
کہ دلکشی کےلیے بھی سنگھار واجب ہے ؟
کوئی پئے ، نہ پئے ، مےکشوں کا شیوہ ہے
ہو جام ہاتھ میں تو پھر خمار واجب ہے
برا ہے کیا جو خوشی اپنی بیچتے ہیں ہم
کہ مفلسی میں تو ہر کاروبار واجب ہے
جہاں خلوص ہو عابد فریب کا باعث
وہاں فریب پہ بھی اعتبار واجب ہے
ملن سے پہلے شب انتظار واجب ہے
ہمیشہ جیت کے رہنا کوئی کمال نہیں
کبھی کبھی تو حقیقت میں ہار واجب ہے
اے حسن سادہ یہ نکتہ مجھے تو سمجھا دے
کہ دلکشی کےلیے بھی سنگھار واجب ہے ؟
کوئی پئے ، نہ پئے ، مےکشوں کا شیوہ ہے
ہو جام ہاتھ میں تو پھر خمار واجب ہے
برا ہے کیا جو خوشی اپنی بیچتے ہیں ہم
کہ مفلسی میں تو ہر کاروبار واجب ہے
جہاں خلوص ہو عابد فریب کا باعث
وہاں فریب پہ بھی اعتبار واجب ہے
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment