Thursday, 15 March 2018

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے
پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے
میں بھی رکتا ہوں مگر ریگ رواں کی صورت
میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے
تیرے جاتے ہی میں شکنوں سے نہ بھر جاؤں کہیں
کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے
جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر
خواب میں نقل مکانی کی طرح ہوتا ہے

چاند ڈھلتا ہے تو اس کا بھی مجھے دکھ فیصلؔ
کسی گم گشتہ نشانی کی طرح ہوتا ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...